مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران، چین اور روس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز میں امریکہ اور تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایران کے خلاف پیش کی گئی مشترکہ قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا ہے۔
تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری معاملے کو سلامتی کونسل میں بھیجنے کے لیے تیار کی گئی قرارداد سفارت کاری کے دعووں سے متصادم ہے اور آئی اے ای اے کے رکن ممالک کو اسے منظور نہیں کرنا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تیار کی گئی قرارداد کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا اور ایران و آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کو کمزور کرنا ہے۔
ایران، چین اور روس نے اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی کوشش کو بھی قانونی اثر سے عاری قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی متعلقہ شقوں کی مدت ختم ہونے کے بعد اس طریقہ کار کو فعال کرنے کی کوشش کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
تینوں ممالک نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث آئی اے ای اے کے لیے ایران میں اپنے حفاظتی اقدامات معمول کے مطابق انجام دینا ممکن نہیں رہا۔
آپ کا تبصرہ